کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم اُس کے ہو کر بھی اُس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں عجیب...
atOptions = { 'key' : 'd7384269b92bdf9a376d837f1efcb3c5', 'format' : 'iframe', 'height' : 250, 'width' : 300, 'params' : {} }; document.write(''); چل آ اک ایسی نظم کہوں جو لفظ کہوں وہ ہو جائے بس اشک کہوں تو اک آنسو تیرے گورے گال کو دھو...